انسان ہونے کی دلیل ( از قلم سید عون شیرازی )

اسلام آباد میں کچی آبادیاں اور غربت سے لڑتے افراد کی کمی نہیں

اسلام آباد کے حوالے سے ملک کے دوسرے علاقوں کے باسیوں کے ذہن میں تصور ہے کہ یہ حکمرانوں اور امیروں کا شہر ہے. اسی لیے اسلام آباد کا نام سنتے ہی ان کی نظروں کے سامنے بڑے بڑے بنگلے ، خوبصورت گاڑیاں، مہنگے شاپنگ سینٹر، وسیع و عریض سڑکیں اور شاندار لباس میں ملبوس مردو خواتین کی شبیہیں رقص کرنے لگتی ہیں.

میں جب کبھی اپنے صوبہ پنجاب کے ضلع سرگودھا کی تحصیل کوٹمومن میں قائم آبائی چک 21 جنوبی جاوں تو مجھے سننے کو ایسے ہی فقرات ملتے ہیں کہ اسلام آباد وزیروں، امیروں اور افسروں کا شہر ہے. اور اس شہر میں کوئی شخص غریب نہیں.

لیکن حقائق اس کے برعکس نہیں تو اس سے مختلف ضرور ہیں. اس میں کوئی شک نہیں کہ بڑی بڑی گاڑیوں میں سفر کرنے والے اور فرنشڈ محل نما گھروں میں رہنے والے یہاں پر کثیر تعداد میں ہیں لیکن ان کے ساتھ ساتھ شہر اقتدار میں مڈل کلاس لوگوں کی اکثریتی تعداد موجود ہے اور اب تو غریب اور بے گھر افراد کی تعداد بھی کافی زیادہ ہو چکی ہے.

اسلام آباد میں اگر سرکاری ملازمین سے سرکاری گھروں کی سہولت واپس لے لی جائے تو بڑی تعداد میں ایسے اہلکار جو گریڈ 4 سے 15 تک کام کرتے ہیں ان کا ماہانہ بجٹ مشکل سے بنے.

یہاں پر جو افراد پرائیویٹ نوکریاں کر رہے ہیں ان میں سے اکثریت پردیسی ہیں. جو ہاسٹلوں اور فلیٹس کے ایک ایک کمرے میں 4,4 مل کے رہتے ہیں. یہ تمام افراد افراد اپنے روشن مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے رہ رہے ہیں. یہی حال اکثریتی سنگل ورکنگ وویمن کا بھی ہے.

اسلام آباد میں کچی آبادیاں اور غربت سے لڑتے افراد کی کمی نہیں لیکن پچھلے کچھ عرصہ سے دیکھ رہا ہوں کہ یہاں پر غریب کثرت سے نظر آ رہے ہیں.

رات کو دفتر سے واپسی پر اکثر آبپارہ جاتا ہوں (اس دفتر میں نہیں جو آبپارہ کی مشہوری کی اصل وجہ ہے) اور احباب کے ہمراہ ہوٹل پر چائے کا دور چلتا ہے اور مختلف موضوعات پر بات چیت ہوتی ہے.

آج بھی آبپارہ کے ایک ہوٹل پر بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ سامنے روڈ کی دوسری طرف ایک شخص کو زمین پر لیٹے دیکھا تو دماغ ٹھٹکا
جو دنیا جہان سے بے نیاز پڑا تھا اور اسے شدید کھانسی لگی ہوئی تھی.

بطور تحقیقاتی صحافی میرے ذہن میں آیا کہ شاید ملک کی کسی معتبر ایجنسی کا کوئی فرد ہو اور اپنی ڈیوٹی اس انداز میں ادا کر رہا ہو. لیکن بعد ازاں علم ہوا کہ نہیں وہ واقعی ایک غریب شخص ہے کہ جسے ہمدردی کی ضرورت تھی. اس کیلئے جتنا کر سکتا تھا میں نے کیا، جس کا یہاں بیان کرنا ضروری نہیں سمجھتا.

تاہم میرے لیے حیرانی کی بات یہ تھی کہ ایک طرف لوگ سینکڑوں، ہزاروں کا کھانا کھا رہے تھے اور دوسری جانب ان کے اپنے ملک کا شہری، جس کا مذہب بھی جدا نہیں تھا، ایک نوالے کو ترس رہا تھا.

اسلام آباد میں اب ایسے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کہ جو ایک وقت کی روٹی کو ترس رہے ہوتے ہیں. کہ جن کے قریب ہی ہزاروں کا کھانا کھایا جا رہا ہوتا ہے اور وہ زمین پر بیٹھے یا لیٹے حسرت سے دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ شاید کسی کو ان پر بھی رحم آ جائے. احباب سے درخواست ہے کہ ایسے اشخاص کیلئے آپ اگر زیادہ کچھ نہیں کر سکتے تو انہیں کھانا کھلا دیا کریں. یہ آپ کے انسان ہونے کی دلیل ہو گی.

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.