مکافات عمل (اردو افسانہ، ازقلم : صبا اظہر )

ماں کے بدن پر موجود تشدد کے نشانات دیکھ کر وہ افسردہ ہو جاتی ۔

” امی بابا آپ کو کیوں مارتے ہیں ؟ آپ تو ان کی خدمت بھی کرتی ہیں اور ہمیشہ سے ان کی وفادار رہی ہیں ۔”

صالحہ اپنے ہونٹوں سے نکلنے والے خون کو اپنے دوپٹے کی نوک سے  صاف کر رہی تھی جب سترہ سال کی رمشا ماں کو افسردہ نگاہوں سے دیکھ کر بولی ۔ 

” کچھ مردوں کی فطرت میں شامل ہوتا ہے عورت پر ہاتھ اٹھانا ، تم ان سب پر دھیان مت دیا کرو رمشا اپنی پڑھائی پر توجہ دو ۔”  صالحہ نرمی سے اس کے گالوں کو چھو کر بولی ۔ ماں کے بدن پر موجود تشدد کے نشانات دیکھ کر وہ افسردہ ہو جاتی ۔ آنکھیں نم ہوئے بنا نہ رہ سکتی ۔

” ماں ۔۔۔۔ کیا مجھے بھی بابا جیسا شوہر ہی ملے گا جو مجھے بھی بلاوجہ مارا کرے گا ، میں آپ جیسی بہادر نہیں ہوں ماں ۔” اپنے من میں آتش کی طرح پلتے  اس خوف کو وہ آج اپنی ماں کے سامنے بیان کر بیٹھی ۔ بیٹی کے منہ سے ایسی باتیں سن کر صالحہ کا وجود لرز اٹھا ۔

” اللہ نہ کرے جو میری بیٹی کو ایسا شوہر ملے جو ان پر تشدد کرے ۔ انشاءاللہ اللہ میری بیٹی کا نصیب بہت اچھا کرے گا ۔ ” صالحہ اس کا افسردہ چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر ملان لہجے میں بولی ۔ وہ بیٹی کو صرف دعا ہی دے سکتی تھی ۔ ماں کی ممتا پر وہ بھی مسکرا دی ۔ صالحہ نے گھڑی پر وقت دیکھا عاقب کے گھر آنے کا وقت ہو گیا تھا وہ خاموشی سے کچن کی طرف جانے لگی ۔ رمشا نے اسے جانے سے روک دیا ۔

"رہنے دیں ماں آج کھانا میں بنا دوں گی آپ آرام کریں ڈاکٹر نے آپ کو سختی سے آرام کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔” صالحہ سترہ سال بعد دوسری بار ماں بننے والی تھی رمشا کے سوا اس کا کوئی بھی خیال نہیں رکھتا تھا ۔

"ثاقب کو اچھا نہیں لگتا میرا تم سے کام کروانا لاڈلی جو ہو تم ان کی میں خود کر دوں گی ۔” صالحہ نے کہا وہ ثاقب کی عادتوں سے بخوبی واقف تھی اس لیے وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پھر سے لڑنے نا بیٹھ جائے اس لیے وہ خود ہی کچن میں جانے لگی مگر رمشا نے جانے سے روک دیا اور خود کچن میں جا کر کھانا اور روٹی بنا دی ۔ کھانا بناتے وقت معمولی سا گرم آئل رمشا کی انگل پر گرا اور وہ جل گئی ۔

” یہ تمہاری انگلی پر کیا ہوا ہے رمشا ۔؟” کھانا کھاتے وقت ثاقب کی نظر اپنی بیٹی کی انگلی پر پڑی ۔ 

” ک۔۔ کچھ نہیں ابو میرا دھیان کہیں اور تھا تو وہ جل گئی ۔ ” رمشا دھیرے سے بولی اور سختی سے اپنی آنکھیں موند پر اپنی بیوقوفی پر افسوس کرنے لگی کہ اس نے اپنا زخم چھاپا کیوں نہیں۔ 

"میں نے تمہیں کتنی بار منع کیا ہے میری بیٹی کو آگ کے پاس مت جانے دیا کرو ۔ خود گھر کے کام کیا کرو ۔ ” ثاقب صالحہ پر برسنے لگا ۔

” لڑکی ہے گھر کے کام کاج تو کرے گی سسرال میں یہی کام آئیں گے ۔ آپ زیادہ غصہ مت کیا کریں ۔” صالحہ نے عام لہجے میں جواب دیا اور کھانا کھانے لگی ۔ ثاقب اپنے غصے پر بے قابو پاتا ہوا غصے سے اپنی سیٹ سے کھڑا ہوا اور صالحہ کو اس کی بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑنے لگا ۔

” میرے سامنے زبان مت چلایا کرو بدزبان عورت ۔” ثاقب صالحہ پر ہاتھ اٹھانے ہی والا تھا کہ رمشا نے درمیان میں آ کر اسے روک دیا ۔

"بابا ۔۔۔۔۔۔ آپ کیوں بلاوجہ امی پر ہاتھ اٹھاتے ہیں میرے چھوٹے سے زخم  نے آپ کو تڑپا دیا اور امی پر جو آپ ہر دن تشدد کرتے ہیں ان زخموں کا کیا ۔۔۔ وہ بھی تو کسی کی بیٹی ہیں نہ ۔” وہ آنکھوں میں آنسو روکے باپ سے شکوہ گو ہوئی ۔

” عورت جس سلوک کے قابل ہوتی ہے مرد اس کے ساتھ ویسا ہی سکون کرتا ہے ۔” وہ صالحہ کو اپنی نظروں میں لا کر بولا اور اپنے کمرے میں چلا گیا ۔ باپ کے دیئے جواب نے رمشا کا وجود ہلا دیا اس کے ہونٹ پھرپھرانے لگے مگر اس نے خود پر ضبط کیے رکھا ۔  رمشا سترہ سے انیس سال کی ہو گئی اس کا ایک بھائی بھی گھر آ گیا مگر ثاقب کا رویہ صالحہ کے ساتھ نہ بدلا وہ جس طرح پہلے تھا اب بھی ویسا ہی تھا اس کے اسی روپے کی وجہ سے رمشا باپ سے بہت دور ہو گئی ۔ صالحہ کی خواہش تھی کہ وہ رمشا کی شادی اپنے بھانجے سے کرے مگر ثاقب اپنی بہن کو زبان دے کر رمشا کے رشتے کے لیے ہاں کر چکا تھا ۔

” آپ کیوں اپنی بیٹی کی زندگی مشکل میں ڈالنا چاہ رہے ہیں ۔ آپ کی بہن کے بیٹے کا کردار اچھا نہیں ہے وہ اپنی بہنوں پر ہاتھ اٹھتا ہے کہیں میری بیٹی پر بھی ہاتھ نہ اٹھائے ۔” ثاقب سے رمشا کی خبر سن کر صالحہ خاموش نہ سکی ۔

” میں نے جو فیصلہ لیا ہے وہی فائنل ہے ۔” ثاقب نے کہا اس سے پہلے وہ مزید الجھتے رمشا نے اپنا فیصلہ سنا دیا ۔

” مجھے یہ رشتہ منظور ہے امی میں بھی بابا کی پسند دیکھنا چاہتی ہوں ۔” وہ باپ کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی ۔ کچھ لمحوں کے لئے وہ خاموش رہ گیا ۔

سات ماہ بعد ۔۔۔۔۔۔۔

رمشا کے سسرال واپسی پر ثاقب کا دل پریشان سا تھا ۔  

"صالحہ پتا نہیں کیوں میرا دل رمشا کو لے کر پریشان سا ہے وہ کچھ ماہ سے خاموش خاموش سی رہنے لگی ہے ۔ تم ایک بار اس سے بات کر کہ دیکھو شاید تمہیں اپنے دل کی بات بتا دے ۔”  کار ڈرائیو کرتے ثاقب نے کہا ۔ 

"وہ مجھے کچھ نہیں بتاتی ہے ۔۔۔۔۔ رمشا کی جیٹھانی بتا رہی تھی کہ احمد رمشا پر ہاتھ اٹھاتا ہے ۔ وہ امید سے ہے ڈاکٹر نے آرام کرنے کا کہا ہے مگر احمد کا کہنا ہے وہ دنیا کی کوئی پہلی عورت نہیں ہے جو بچہ پیدا کر رہی ہے اپنے حصے کے سارے کام وہ خود کرے ۔ ” صالحہ نے ثاقب کو سچ بتایا جسے سن کر اسے حیرت کا جھٹکا لگا اور اس نے وہی سے گاڑی واپس لی ۔ 

” اگر تمہاری کہی بات سچ نکلی تو میں احمد کو زندہ نہیں چھوڑوں گا میری پھول جیسی بچی پر وہ ہاتھ کیسے اٹھا سکتا ہے ۔ ” بیٹی پر ہونے والے ظلم کی خبر سن کر  ثاقب غصے سے آگ بگولہ ہونے لگا ۔ صالحہ اسے افسوس زدہ نگاہوں سے دیکھنے لگی وہ خود بھی تو اتنے سالوں سے کسی کی بیٹی پر غم کے پہاڑ توڑ رہا تھا اور آج اپنی بیٹی کی سن کر درد سے تڑپ اٹھا تھا ۔

” صبر سے کام لیں ثاقب رمشا امید سے ہے ۔” صالحہ نے کہا ۔  ثاقب نے اس کی بات پر کوئی دھیان نہیں دیا اور دوبارہ سے رمشا کے گھر پہنچ گیا اس کے قدم صدمے سے لاکھڑا ئے  جب ثاقب نے اپنی پھول جیسی بیٹی کو احمد کے ہاتھوں بری طرح پیٹتے ہوئے دیکھا ۔ 

” گھٹیا انسان چھوڑ میری بیٹی کو ۔” ثاقب نے آگے بڑھ کر احمد کو رمشا سے پیچھے کیا ۔ رمشا کی بری حالت تھی ۔

” تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا رمشا کے احمد تم پر ہاتھ اٹھاتا ہے میں اس کے ہاتھ توڑ دیتا ۔” ثاقب نے نرمی سے کہا 

” آپ نے ہی ایک بار مجھے کہا تھا نہ بابا عورت جس سلوک کے قابل ہوتی ہے مرد اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنا چاہئے ۔۔۔۔ میں بھی اسی سلوک کے قابل ہوئی نہ ۔” وہ باپ کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی ۔ ثاقب رو پڑا ۔

” نہیں بیٹا میری سوچ غلط تھی تم بیٹیاں تو گھر کا وہ پھول ہوتی ہو جیسے ماں باپ توڑنے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں توڑنے پر تمہیں درد نہ ہو اور ہم شوہر اپنی مردانگی دکھانے کے لئے صرف عورت پر ہاتھ اٹھاتے ہیں ہر بار عورت کا قصور نہیں ہوتا ۔ ” ثاقب نے روتے ہوئے اپنا جرم کیا ۔ رمشا مزید رو پڑی ۔

” چلو میرے ساتھ میں تمہیں اب اس درندے کے ساتھ نہیں چھوڑوں گا ۔ ” ثاقب رمشا کے آنسوؤں سے تر گال کو صاف کرتے بولا اور اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا مگر اس سے جانے سے انکار کر دیا۔

” نہیں بابا میں آپ کے ساتھ کہیں نہیں جاؤں گی میری ماں بھی تو اتنے سالوں سے آپ کا ظلم برداشت  کر رہی ہے اب مجھے بھی اپنے شوہر کا ظلم برداشت کرنا ہے آخر اسی کو تو مکافات عمل کہتے ہیں۔ ایک کڑوا سچ ہے جیسے ہم مسترد کرنا بھی چاہیں تو نہیں کر سکتے ہیں۔  دنیا کے حساب دنیا میں ہی دینے پڑتے ہیں ۔ ثاقب شرمندہ ہو کر خالی ہاتھ لوٹ گیا ۔ اور رمشا خود کو مضبوط بنا کر اپنے حالات سے مقابلہ کرنے لگی اس امید کے ساتھ کہ شاید وہ احمد کی سوچ کو بدل سکے اور اپنی اولاد کو مکافات عمل سے بچا سکے ۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.